ہفتہ, دسمبر 31, 2016

EASY WAY

" سادہ اور آسان راستہ "
جب نظام اسلام کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو ایک سوال بڑی شد ومد سے سننے کو ملتا ہے کہ اسلام کا نظام نافذ کیسے ہو گا ۔ بڑے بڑے عالم فاضل بھی ہتھیار ڈال چکے ہیں ۔
کسی بھی حکومتی نظام کے چند شعبے ہوتے ہیں ، جن پر نظام لاگو کرنا پڑتا ہے ، ان میں عدلیہ ، انتظامیہ ، معاشی معاملات اور معاشرتی حدود نہایت اہم ہیں ۔ ان تمام شعبوں پر اسلامی طرز حکمرانی لاگو کرنے میں ، نہ کسی تحقیق کی ضرورت ہے ، نہ کوئی رکاوٹ ہے اور نہ کوئی مشکل درپیش ہے ۔ مسالک کا سوال کہ کونسی فقہ نافذ ہو ، نہایت آسان ہے ، ہر مسلک پر اسکی فقہ کے قواعد و ضوابط لاگو کر دو ۔ حکمت عملی طے کرنے کے لئے روایتی شوریٰ کا قیام بھی کوئی رکاوٹ نہیں ، ہمارے بہت سارے اکابرین موجود ہیں جن پر اکثریت متفق ہے ۔ اور اپنے کردار سے اس ذمہ داری کے اہل بھی ہیں ۔  اصل حقیقت صرف اتنی ہے کہ سیاسی ملا ، بکے ہوئے دانشور ، مغرب زدہ میڈیا اور تعصب کا شکار گروہ ، کرپشن میں آلودہ  ہاتھ نہیں چاہتے کہ اسلام کی حدود و قیود نافذ ہو جائیں ۔ انہیں خوف ہے کہ انکی گرفت آسان ہو جائے گی ۔ ہمارے وہ دوست جو دن رات اسلامی نظام کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ انہیں اسے آسان اور عام فہم انداز سے سامنے لانا ہو گا ۔ اور خصوصاً جو محقق بے سروپا سوالات کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں ، ان سے بغیر کسی الجھاو کے پہلو تہی کرنا ہو گی ۔ یہ کام اللہ کی طرف سے ملنے والی توفیق ہے ، انعام ہے ، قلم کا جہاد ہے ۔ اسے جاری رکھا جائے تو ایک روز کامیابی ضرور ملے گی ۔ بہت تیزی سے بدلتا ہوا رحجان کامیابی کا اشارہ ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی 

بدھ, دسمبر 28, 2016

HAPPY NEW YEAT

" نیا سال "
اے اللہ تیری دھرتی پر روز سورج طلوع ہوتا ہے روز غروب  ۔ دن بدلتے ہیں ، سال بدلتے ہیں ۔ موسم بدلتے ہیں ، کبھی بہار ہوتی ہے کبھی خزاں ۔ تیری شان کبریائی میں کچھ نا ممکن نہیں ۔ تو سنتا بھی ہے جانتا بھی ہے  ,سب اختیارات کا مالک بھی ہے ۔
ایک نئے سال کی نوید گردش کر رہی ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اب کی بار یہ نیا سال مظلوم ، بےکس ، نادار اور مستحق مسلمانوں کی دعائیں قبول ہونے کا سال ہو جائے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ مسلمانوں کی حمیت اور غیرت جاگ جائے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ طاغوت کے سامنے جھکے ہوئے سر تیرے سامنے جھکنے لگیں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حرص کے پجاری لیڈر تیری ہدایت کی راہ پہ چل نکلیں ۔  میرا ایمان ہے کہ تو یہ سب کرنے پہ قادر ہے ۔ تو فرعون سے بنی اسرائیل کو نجات دلانے پہ قادر ہے ۔ اپنی قدرت کے صدقے میں آج  کے فرعونوں سے نجات کے سامان پیدا فرما دے ۔ دنیا کے کونے کونے میں تیرے محبوب کی امت رسوائی جھیل رہی ہے ، ان کے لیے بھی عزت و توقیر کے نئے  سالوں کا  آغاز ہو جائے ۔  اے اللہ تیرے نظام کے لئے کوشاں ہاتھ کمزور اور بے بس ہیں ، طاغوتی نظام ہمارے رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے ۔ کوشاں ھاتھوں کو مایوسی سے بچا لے ۔ ہمیں فلاح کی راہ پر گامزن کر دے ۔  تیرا یہ انعام سب انعاموں سے افضل ہے ۔ ہمیں اس انعام سے نواز دے ۔
مایوس لوگوں کو ، مجبور لوگوں کو  نئے سال کی مبارک سے کیا سرو کار ۔  ایک ہندسہ بدلنے سے کیا واسطہ ۔ رسوم سے کیا ناطہ کیا رشتہ ۔ امراء کے چونچلے غریب کا زخم کریدتے ہیں ۔ اگر دینا ہے تو غریب کو ، ضرورت مند کو ، مظلوم کو نئے دن کے ساتھ محبت دو ، خلوص دو ، جینے کا سامان دو ۔ پھر مل کے کہو " نیا سال مبارک "
شکریہ
آزاد ہاشمی 

SELFISH LEADERS

" جاہل قوم کے مقدس  لیڈر  "
ہماری قوم کی بھی عجیب روایات ہیں ، جس کو جب چاہیں مسیحائی کی خلعت عطا کردیں اور جس کو جب چاہیں ٹھاہ بنا دیں  ۔ ایک سو چھبیس سیاسی جماعتیں ، انتخابات میں حصہ لینے کی اہل ہیں اور ان میں سے نصف ایسی ہیں جن کے خالق قانون کی نظر میں مجرم ، خائن ، دشمن کے ایجنٹ اور قابلیت کے اعتبار سے جاہل مطلق ہیں ۔ ان سب نے ایک ایک منشور جمع کرا رکھا ہے ، جو تھوڑے بہت ردوبدل کے ساتھ  ایک دوسرے کا چربہ ہے ۔ وہ جماعتیں جو ملکی قانون کی شرائط پوری نہیں کر رہیں انکی گنتی ممکن نہیں ، کیونکہ ایک ایک شہر میں انگنت  ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جب منشور ملتے جلتے ہیں تو پھر الگ الگ محاذ کی ضرورت کیا ہے ۔ قوم کو تقسیم در تقسیم کرنے سے کیا مقصد حاصل ہو سکتا ہے ۔ جب سوچ ایک ہے تو اکٹھے بیٹھنے میں کیا حرج ہے ۔
اصل حقیقت یہ ہے  کہ منشور سے کسی کو بھی کوئی سروکار نہیں ، نہ لیڈرز کو نہ کارکنوں کو ۔ مفادات کی جنگ ہے ، لیڈرز کی بھی اور سیاسی پیشہ ور کارکنوں کی بھی ۔ یہی  جمہوریت ہے جس نے ایمان کی جگہ لے لی ہے ۔ پیشہ ور سیاسی کارکنوں نے ان لیڈروں کو مقدس بنا رکھا ہے ، کسی  کی مجال نہیں کہ کسی سیاسی چور کو چور کہہ سکے ۔ ایسا سچ بولنے والے کی جان ، مال ، عزت و آبرو کی کوئی ضمانت نہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ سلیکشن کمیشن ، احتسابی ادارے ، ملکی سالمیت کے ذمہ داروں نے کبھی جرات نہیں کی کہ سیاسی پارٹی کو منشور پر عمل نہ کرنے کے باعث مزید مذاق سے روک دیا ہو ۔
ایسے نظام اور طرز حکمرانی کو کیا کہنا درست ہو گا ۔ کیا اسے جاری رہنا چاہئے یا ختم ہونا چاہئے ۔ آئیے ملکر سوچتے ہیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی 

ہفتہ, دسمبر 24, 2016

" حجتیں اور دلیلیں "
جب بھی اسلامی نظام کی بات کی جاتی ہے ، تو جمہوریت کے پروانے تلملا اٹھتے ہیں ۔ جو سوالات اور اعتراضات اسلامی طرز حکومت پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ ان تمام سے جو بات سامنے آتی ہے کہ  اسلامی نظام سے آگہی  کا فقدان ہے ۔ اسلام کا طرز حکومت قران میں واضع طور پر بتا دیا گیا ۔ اور اسوہ حسنہ نے اسکی عملی تصویر سامنے رکھ دی ۔ اب کس دلیل کی ضرورت باقی ہے ۔ رہا یہ اعتراض کہ پوری دنیا میں کہیں بھی اسلامی نظام قائم ہی نہیں ہو سکا ، جس کو مثال بنا کر پیش کیا جائے ۔ جمہوریت سے بہتر نظام موجود ہی نہیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
ہر حکومت کے بنیادی پہلووں  کو سمجھ لیا جائے ، تو بہت سارا ابہام از خود دور ہو جاتا ہے ۔
طرز عدل ، تعزیرات ، اصول معیشت ، معاشرت کا نظام ، بنیادی حقوق کا تحفظ ،  عوام کی فلاح کا مربوط کنٹرول ،  اور وسائل کا موزوں استعمال کرنے کو نظام مملکت کہا جاتا ہے ۔ اور یہ تمام پہلو اسلامی طرز حکومت کے لئے پہلے سے واضع شکل میں موجود ہیں ۔ کسی نئے معرکے کی قطعی ضرورت نہیں ۔
کوئی ایک جمہوریت کا مبلغ ، کوئی ایک جمہوریت کا پرستار ، بتا سکتا ہے کہ حکمرانی کی سیڑہی کے علاوہ جمہوریت کیا ہے ۔ کیا کوئی ایک امید کی کرن باقی ہے کہ ہم اس طرز حکومت سے بہتری لا سکیں گے ۔ ہمارا چھٹکارا ہو جائے گا کرپٹ لوگوں سے ۔ اگلے سو سال میں صاحب کردار لوگ منتخب ہونے کی  کوئی امید ہے ۔  دنیا میں جتنے بھی ممالک جمہوریت کی اساس پر چل رہے ہیں ۔ کیا ان سب میں مخصوص گروپ ہی حکمران نہیں رہتے ۔ کیا تبدیلی آتی ہے ووٹوں سے ۔ غور تو کرو ۔ سمجھ آ جائے گا ۔ دلیلیں اور حجتیں بے سود لگیں گی ۔
ضرب المثل ہے
من حرامی حجت ہزار
شکریہ
ازاد ہاشمی 

MY LORD

" مائی لارڈ کون "
انگریز کا جب بھی بس چلا اس نے مفتوح قوم کی غیرت اور حمیت کو ختم کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ روایات کو ، تمدن کو ، تہذیب کو ، معاشرتی اقدار کو تہس نہس کیا ۔ پھر ایسے نشان ذہنوں میں نقش کر دیئے جو مٹنے کا نام ہی نہیں لیتے ۔  عدالتی نظام ، تعلیمی نظام ، طرز حکمرانی ایسا قائم کر دیا کہ آزادی کے بعد بھی غلامی ختم نہیں ہوتی -  وکلاء برادری عموماً  اعلی تعلیم یافتہ طبقہ مانا جاتا ہے ، جو حقوق اور فرائض سے بخوبی اگاہ ہوتے ہیں ۔ الفاظ کے معانی اور مفہوم کو ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔ مگر غلامی کی گہری لکیر جو انگریز نے انکے ذہنوں میں کھینچ دی ۔ وہ کبھی نہیں مٹ پائی ۔ عدل کی کرسی پہ بیٹھے  ہوئے   ہر بت کو می لارڈ کہنا اور ماننا  ، روز مرہ کا معمول ہے ۔ جو انگریز لکھ کے چلا گیا آج تک ہمارا قانون اور اسکے رکھوالے اعلیٰ تعلیم یافتہ وکیل  ۔  فیصلے دینے والوں کا کردار بھی اب کھل کر سامنے آگیا ہے ۔ مائی لارڈ نے جو کمال دکھایا ، ہم تو بھگت ہی رہے ہیں ، ہماری آنے والی نسلیں بھی بھگتیں گی ۔ وکلاء کی بھی اور ججوں کی  نسلیں بھی  یہ پھل کھائیں گی ۔ وقت ہے کہ حقیقی مائی لارڈ کا قانون مان لیا جائے ۔ اور وہ صرف اللہ کی ذات ہے ۔ اسی میں عافیت ہے ۔  اسی میں آخرت کی بھلائی بھی ہے دنیا کی بھی ۔ ایک دن ہر وکیل کا دروازہ اور ہر انگریز کے مائی لارڈ کا دروازہ موت کھٹکھٹائے گی ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی

ARE U BRAVE

" بہادری کہاں گئی "
سنا ہے اور تاریخ گواہی دیتی ہے کہ مسلمان ایک بہادر قوم ہوا کرتی تھی ۔ بے سروسامانی میں بھی دنیا کی نہایت طاقتور قومیں مسلمانوں سے لرزاں تھیں ۔ وہ طاقت ، ایمان کی طاقت تھی ۔ اللہ پر توکل کی عادت تھی ، اللہ کے دین سے لگن تھی ، ایک معبود ، ایک قران ، ایک رسول ، ایک دین کی یگانگت تھی ۔ موت اللہ کے لئے تھی زندگی اللہ کے لئے ۔ حکم ربی ہر خواہش پر حاوی تھا ۔  یہ وہ طاقت تھی یہ وہ محبت تھی اللہ اور رسول اللہ سے ، جو مسلمانوں کو ممتاز کرتی تھی  ، بہادر بناتی تھی ۔
اب یہ سب کچھ باقی نہیں رہا ۔ اب   یہ  امت ، مسالک کی تقسیم سے ، ایمان کی کمزوری  سے ،  حرص و ہوس کی پرستش سے  کمزور امت بن چکی ہے ۔  کفر کے لئے آسان ترین حدف ،  سازشوں کے لئے موثر ترین لوگ ۔ جس کا دل چاہے بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر مقتل میں لے جائے ۔ جس کا دل چاہے گردن پہ پاوں رکھ لے ۔ جس کا دل چاہے گھر اور چھت چھین لے ۔  دنیا کے کروڑوں مسلمان اسقدر بے بس کہ الاماں الحفیظ ۔
رسوائی کی کیا حد ہو گی جو ہم مسلمان عبور نہیں کر چکے ۔ کافروں سے رحم کی بھیک مانگتے ہیں ، اللہ سے مدد مانگنے کو ایمان سمجھنے والے کفر کے سامنے دامن پھیلائے بیٹھے ہیں ۔ سوشل میڈیا پہ تصاویر لگا لگا کر اپنی بے بسی کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔
ان تمام علماء سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جہاد کب اور کہاں واجب ہوتا ہے ۔  جنہوں نے مسالک کی آگ سے مسلمانوں کی یگانگت خاک کر ڈالی ۔  جنہوں نے سیاسی بساط میں اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔
کہاں ہے بہادری ۔ کہاں ہے ایمان ۔
کیا جواب دو گے یوم حساب اللہ کو ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی

MAAN

" عظیم ہستی "
ماں ایک ایسا وجود ہے ،  جو ہمیشہ عظمت کی بلندی پر  رہتا ہے ۔ اولاد کے لئے ہی نہیں ہر بچے کے  لیے ایک سا جذبہ صرف ماں کی شان ہے ۔ کائنات کی تصویر میں جو سب سے زیادہ خوبصورت رنگ ہے وہ ماں ہے ۔
 آج اپنی ماں کی عظمت کی وہ تصویر دیکھی  ، جو پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔ جب میرے بیٹے کی آواز کا درد میرے کانوں سے ٹکرایا ۔ وہ کہہ رہا تھا ۔
" ابو ! میرے لئے وہ لمحہ بہت دکھ بھرا تھا ، جب مجھے ڈکلیئر کرنا تھا کہ جو شخص میرے سامنے ہے وہ مر چکا ہے ۔ میں دن میں کتنے لوگوں کو مردہ ڈکلیئر کرتا ہوں ۔ مگر آج میں اس ہستی کے پاس کھڑا رو رہا تھا ۔ سوچ رہا تھا جن دعاؤں کی طفیل آج اس مقام پر ہوں ، وہ دعائیں میرے سامنے مردہ ہیں ۔ میرے لئے زندگی کا پہلا امتحان تھا ۔ جہاں میرے قلم ، میرے الفاظ اور میرے آرڈر  میں کپکپاہٹ تھی ۔  وہ ہاتھ جو ہمیشہ ہمارے لئے اللہ کے سامنے پھیلے رہتے تھے ، آج سے ساکت ہو گئے تھے "
درد کا احساس جو اسکے لفظوں میں تھا ، یہ سب اسی عظیم ہستی کا مرہون تھا ۔ جسے وہ دادی کہتے ہیں اور جس کا بیٹا ہونے کا اعزاز مجھے بھی حاصل ہے ۔اللہ اپنی رحمتوں کی آغوش میں رکھے اور جنت نصیب کردے ۔ آمین
شکریہ
آزاد ہاشمی