" سادہ اور آسان راستہ "
جب نظام اسلام کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو ایک سوال بڑی شد ومد سے سننے کو ملتا ہے کہ اسلام کا نظام نافذ کیسے ہو گا ۔ بڑے بڑے عالم فاضل بھی ہتھیار ڈال چکے ہیں ۔
کسی بھی حکومتی نظام کے چند شعبے ہوتے ہیں ، جن پر نظام لاگو کرنا پڑتا ہے ، ان میں عدلیہ ، انتظامیہ ، معاشی معاملات اور معاشرتی حدود نہایت اہم ہیں ۔ ان تمام شعبوں پر اسلامی طرز حکمرانی لاگو کرنے میں ، نہ کسی تحقیق کی ضرورت ہے ، نہ کوئی رکاوٹ ہے اور نہ کوئی مشکل درپیش ہے ۔ مسالک کا سوال کہ کونسی فقہ نافذ ہو ، نہایت آسان ہے ، ہر مسلک پر اسکی فقہ کے قواعد و ضوابط لاگو کر دو ۔ حکمت عملی طے کرنے کے لئے روایتی شوریٰ کا قیام بھی کوئی رکاوٹ نہیں ، ہمارے بہت سارے اکابرین موجود ہیں جن پر اکثریت متفق ہے ۔ اور اپنے کردار سے اس ذمہ داری کے اہل بھی ہیں ۔ اصل حقیقت صرف اتنی ہے کہ سیاسی ملا ، بکے ہوئے دانشور ، مغرب زدہ میڈیا اور تعصب کا شکار گروہ ، کرپشن میں آلودہ ہاتھ نہیں چاہتے کہ اسلام کی حدود و قیود نافذ ہو جائیں ۔ انہیں خوف ہے کہ انکی گرفت آسان ہو جائے گی ۔ ہمارے وہ دوست جو دن رات اسلامی نظام کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ انہیں اسے آسان اور عام فہم انداز سے سامنے لانا ہو گا ۔ اور خصوصاً جو محقق بے سروپا سوالات کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں ، ان سے بغیر کسی الجھاو کے پہلو تہی کرنا ہو گی ۔ یہ کام اللہ کی طرف سے ملنے والی توفیق ہے ، انعام ہے ، قلم کا جہاد ہے ۔ اسے جاری رکھا جائے تو ایک روز کامیابی ضرور ملے گی ۔ بہت تیزی سے بدلتا ہوا رحجان کامیابی کا اشارہ ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
جب نظام اسلام کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو ایک سوال بڑی شد ومد سے سننے کو ملتا ہے کہ اسلام کا نظام نافذ کیسے ہو گا ۔ بڑے بڑے عالم فاضل بھی ہتھیار ڈال چکے ہیں ۔
کسی بھی حکومتی نظام کے چند شعبے ہوتے ہیں ، جن پر نظام لاگو کرنا پڑتا ہے ، ان میں عدلیہ ، انتظامیہ ، معاشی معاملات اور معاشرتی حدود نہایت اہم ہیں ۔ ان تمام شعبوں پر اسلامی طرز حکمرانی لاگو کرنے میں ، نہ کسی تحقیق کی ضرورت ہے ، نہ کوئی رکاوٹ ہے اور نہ کوئی مشکل درپیش ہے ۔ مسالک کا سوال کہ کونسی فقہ نافذ ہو ، نہایت آسان ہے ، ہر مسلک پر اسکی فقہ کے قواعد و ضوابط لاگو کر دو ۔ حکمت عملی طے کرنے کے لئے روایتی شوریٰ کا قیام بھی کوئی رکاوٹ نہیں ، ہمارے بہت سارے اکابرین موجود ہیں جن پر اکثریت متفق ہے ۔ اور اپنے کردار سے اس ذمہ داری کے اہل بھی ہیں ۔ اصل حقیقت صرف اتنی ہے کہ سیاسی ملا ، بکے ہوئے دانشور ، مغرب زدہ میڈیا اور تعصب کا شکار گروہ ، کرپشن میں آلودہ ہاتھ نہیں چاہتے کہ اسلام کی حدود و قیود نافذ ہو جائیں ۔ انہیں خوف ہے کہ انکی گرفت آسان ہو جائے گی ۔ ہمارے وہ دوست جو دن رات اسلامی نظام کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ انہیں اسے آسان اور عام فہم انداز سے سامنے لانا ہو گا ۔ اور خصوصاً جو محقق بے سروپا سوالات کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں ، ان سے بغیر کسی الجھاو کے پہلو تہی کرنا ہو گی ۔ یہ کام اللہ کی طرف سے ملنے والی توفیق ہے ، انعام ہے ، قلم کا جہاد ہے ۔ اسے جاری رکھا جائے تو ایک روز کامیابی ضرور ملے گی ۔ بہت تیزی سے بدلتا ہوا رحجان کامیابی کا اشارہ ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں