" بابا جی ! آپ کی طبیعت ٹھیک ہے " میں نے با با جی کی دوکان پہ لٹکے ہوۓ بورڈ کو دیکھ کر پوچھا جس پہ لکھا تھا -
" رمضان میں سموسہ ایک روپیہ , پکوڑے آدھی قیمت پر - غریبوں کے لئے مفت "
میرا سوال بے محل نہیں تھا - کیونکہ یہی چھوٹا سا دھندہ اسکی زندگی کا اثاثہ ہے - بابا جی مسکرایے اور بولے -
" ہاں ٹھیک ہوں بیٹا - میں نے سوچا کہ کاروبار میں اضافہ کروں "
ہم دونوں کی نظریں پوسٹر پر تھیں - یہ ایک نئی روایت تھی - بابا جی کی سوچ مثبت تھی مگر وہ ایک غریب محنتی شخص ہے - نقصان کر کے کیسے زندہ رہے گا - میں اپنی جگہ پریشان تھا مگر اس بوڑھے کے چہرے پہ عجیب چمک تھی -
" میں ایک بڑا کاروبار شروع رہا ہوں , تجارت کروں گا رمضان میں , انشاء الله - خوب کماؤں گا - سارے سال کی کمائی ایک ایک دن میں کروں گا "
میں مبہوت کھڑا سنے جا رہا تھا - کچھ کہے بغیر اسکے چہرے کی بشاشت کو دیکھ رہا تھا - ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ زمین کھود رہا ہے اس امید پہ کہ خزانہ اسکے ہاتھ لگنے والا ہے -
" بیٹا ! الله سے تجارت شروع کر رہا ہوں - بس اب برکت ہی برکت ہو گی - دیکھنا میں ہر روز اتنا کماؤں گا کہ میری جھولی میں نہیں سماے گا - تم دیکھنا - لوگوں کو لگے گا میں نے قیمت کم کر دی - نادان ہیں یہ دنیا دار - سمجھ نہیں لوگوں کو - میں نے کئی گنا قیمت بڑھا دی ہے "
بابا جی سمجھ رہے تھے کہ میں کیا سوچ رہا ہوں , اور خود بخود جواب دیے جا رہے تھے
" یہ برکتوں کا مہینہ ہے , ہم دنیا کمانے نکل پڑتے ہیں - اصل کمائی کی فکر نہیں کرتے اور برکتوں کو چھوڑ کر مردار کے پیچھے بھاگتے ہیں - یہ دنیا کا مال مردار ہے - اگر یہ تجارت سمجھ میں آ گئی تو ہر دکان پہ ایسے کاغز لٹکیں گے "
میں نے ایک لمبی سانس لی تو بابا جی نے قہقہ لگایا -
" یہ جو میں کہہ رہا ہوں , بڑی ریاضت کے بعد سمجھ آیا ہے مجھے - تمہیں ابھی سمجھ نہیں آئیگا "
سمجھ تو میں بھی چکا تھا مگر دنیا کے طریقے بھی نہیں بھلا پا رہا تھا -
" الله آپ کی تجارت قبول فرماے " میں نے کہا تو بابا جی نے زور سے آمین کہا اور اپنے کام میں لگ گئے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
" رمضان میں سموسہ ایک روپیہ , پکوڑے آدھی قیمت پر - غریبوں کے لئے مفت "
میرا سوال بے محل نہیں تھا - کیونکہ یہی چھوٹا سا دھندہ اسکی زندگی کا اثاثہ ہے - بابا جی مسکرایے اور بولے -
" ہاں ٹھیک ہوں بیٹا - میں نے سوچا کہ کاروبار میں اضافہ کروں "
ہم دونوں کی نظریں پوسٹر پر تھیں - یہ ایک نئی روایت تھی - بابا جی کی سوچ مثبت تھی مگر وہ ایک غریب محنتی شخص ہے - نقصان کر کے کیسے زندہ رہے گا - میں اپنی جگہ پریشان تھا مگر اس بوڑھے کے چہرے پہ عجیب چمک تھی -
" میں ایک بڑا کاروبار شروع رہا ہوں , تجارت کروں گا رمضان میں , انشاء الله - خوب کماؤں گا - سارے سال کی کمائی ایک ایک دن میں کروں گا "
میں مبہوت کھڑا سنے جا رہا تھا - کچھ کہے بغیر اسکے چہرے کی بشاشت کو دیکھ رہا تھا - ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ زمین کھود رہا ہے اس امید پہ کہ خزانہ اسکے ہاتھ لگنے والا ہے -
" بیٹا ! الله سے تجارت شروع کر رہا ہوں - بس اب برکت ہی برکت ہو گی - دیکھنا میں ہر روز اتنا کماؤں گا کہ میری جھولی میں نہیں سماے گا - تم دیکھنا - لوگوں کو لگے گا میں نے قیمت کم کر دی - نادان ہیں یہ دنیا دار - سمجھ نہیں لوگوں کو - میں نے کئی گنا قیمت بڑھا دی ہے "
بابا جی سمجھ رہے تھے کہ میں کیا سوچ رہا ہوں , اور خود بخود جواب دیے جا رہے تھے
" یہ برکتوں کا مہینہ ہے , ہم دنیا کمانے نکل پڑتے ہیں - اصل کمائی کی فکر نہیں کرتے اور برکتوں کو چھوڑ کر مردار کے پیچھے بھاگتے ہیں - یہ دنیا کا مال مردار ہے - اگر یہ تجارت سمجھ میں آ گئی تو ہر دکان پہ ایسے کاغز لٹکیں گے "
میں نے ایک لمبی سانس لی تو بابا جی نے قہقہ لگایا -
" یہ جو میں کہہ رہا ہوں , بڑی ریاضت کے بعد سمجھ آیا ہے مجھے - تمہیں ابھی سمجھ نہیں آئیگا "
سمجھ تو میں بھی چکا تھا مگر دنیا کے طریقے بھی نہیں بھلا پا رہا تھا -
" الله آپ کی تجارت قبول فرماے " میں نے کہا تو بابا جی نے زور سے آمین کہا اور اپنے کام میں لگ گئے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں