" ہمارا نظام جمہوریت کیوں , اسلام کیوں نہیں "
یہ ایک ایسا سوال ہے , جس کا جواب شاید یہی ہے کہ ہمارے لوگ اسلام کے نظام سے یا تو آگاہ نہیں , یا پھر مخلص نہیں -
اسکا جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے اندر تفرقات کی دیوار بہت بڑی رکاوٹ ہے - جو اسلامی نظام کو قابل عمل نہیں ہونے دیتی -
اسکا جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اشرافیہ کو خوف ہے کہ انکو گھی سے انگلیاں نکالنا پڑیں گی -
جواب کچھ بھی ہو ,حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ملک کے کرتا دھرتا میں اکثریت اسلام سے واقف ہی نہیں اور اسلام کو قدامت پسند نظام سمجھتے ہیں - ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جو مذہبی جماعتیں اسلام کا جھنڈا اٹھا کر ووٹ لیتی ہیں , وہ بھی اسلام کے نظام سے مخلص نہیں , اسکا ثبوت یہ ہے کہ ان لوگوں نے قانون ساز اسمبلیوں میں بیٹھ کر کبھی اسلامی نظام کی سنجیدگی سے تحریک نہیں کی -
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم نے حقیقی طور پر کبھی الله کی ذات پر توکل ہی نہیں کیا ہمیشہ امریکہ اور یورپ کو اپنا قبلہ و کعبہ سمجھتے ہیں , خوفزدہ رہتے ہیں کہ اگر جمہوریت کے خالق ناراض ہو گئے تو ہمارا وہی حشر ہو گا , جو قذافی کا ہوا , جو صدام کا ہوا -
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم خوفزدہ ہیں کہ اسلام کے نظام کی بات کی تو ہمیں بھیک ملنا بند ہو جاۓگی -
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارا دانشور طبقہ اور میڈیا فروخت ہو چکا ہے , وہ جمہوریت کی اتنی تشہیر کر رہے ہیں , کہ عام ذہن کا آدمی یہی خوشحالی کا راستہ خیال کرتے ہیں -
سب سے کڑوا سچ یہ کہ ہم سب زبان کی حد تک مسلمان ہیں , عمل کے لحاظ سے صفر ہیں -
الله نے جو حالت ہماری کر دی ہے کہ ہمارے سروں پر بد طینت حکمران مسلط کر دیے ہیں , جو جمہوریت کا ثمر ہیں - خوف , بھوک , بد امنی اور قرضوں کا پہاڑ نہ صرف ہمارے سروں پر ہے بلکہ ہماری آنے والی نسلیں یہ عذاب جھیلیں گی -
ہمارے مصلحت اندیش دانشور , جو چھپے بیٹھے ہیں , انہیں متحرک ہونا ہو گا , ہمارے علماء کو عمل کی آواز بننا ہو گا -
وگرنہ سب کا انجام خوش آئند نہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
یہ ایک ایسا سوال ہے , جس کا جواب شاید یہی ہے کہ ہمارے لوگ اسلام کے نظام سے یا تو آگاہ نہیں , یا پھر مخلص نہیں -
اسکا جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے اندر تفرقات کی دیوار بہت بڑی رکاوٹ ہے - جو اسلامی نظام کو قابل عمل نہیں ہونے دیتی -
اسکا جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اشرافیہ کو خوف ہے کہ انکو گھی سے انگلیاں نکالنا پڑیں گی -
جواب کچھ بھی ہو ,حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ملک کے کرتا دھرتا میں اکثریت اسلام سے واقف ہی نہیں اور اسلام کو قدامت پسند نظام سمجھتے ہیں - ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جو مذہبی جماعتیں اسلام کا جھنڈا اٹھا کر ووٹ لیتی ہیں , وہ بھی اسلام کے نظام سے مخلص نہیں , اسکا ثبوت یہ ہے کہ ان لوگوں نے قانون ساز اسمبلیوں میں بیٹھ کر کبھی اسلامی نظام کی سنجیدگی سے تحریک نہیں کی -
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم نے حقیقی طور پر کبھی الله کی ذات پر توکل ہی نہیں کیا ہمیشہ امریکہ اور یورپ کو اپنا قبلہ و کعبہ سمجھتے ہیں , خوفزدہ رہتے ہیں کہ اگر جمہوریت کے خالق ناراض ہو گئے تو ہمارا وہی حشر ہو گا , جو قذافی کا ہوا , جو صدام کا ہوا -
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم خوفزدہ ہیں کہ اسلام کے نظام کی بات کی تو ہمیں بھیک ملنا بند ہو جاۓگی -
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارا دانشور طبقہ اور میڈیا فروخت ہو چکا ہے , وہ جمہوریت کی اتنی تشہیر کر رہے ہیں , کہ عام ذہن کا آدمی یہی خوشحالی کا راستہ خیال کرتے ہیں -
سب سے کڑوا سچ یہ کہ ہم سب زبان کی حد تک مسلمان ہیں , عمل کے لحاظ سے صفر ہیں -
الله نے جو حالت ہماری کر دی ہے کہ ہمارے سروں پر بد طینت حکمران مسلط کر دیے ہیں , جو جمہوریت کا ثمر ہیں - خوف , بھوک , بد امنی اور قرضوں کا پہاڑ نہ صرف ہمارے سروں پر ہے بلکہ ہماری آنے والی نسلیں یہ عذاب جھیلیں گی -
ہمارے مصلحت اندیش دانشور , جو چھپے بیٹھے ہیں , انہیں متحرک ہونا ہو گا , ہمارے علماء کو عمل کی آواز بننا ہو گا -
وگرنہ سب کا انجام خوش آئند نہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں