" تقریر نہیں تدبیر "
ھم یہ سمجھے بیٹھے ھیں کہ اسلام کے خلاف طاغوت کی منظم سازش دعاوں سے ٹل جائے گی۔ مذمت اور نفرت کا سخت ترین لفظوں میں اظہار کفر کو روک لے گا ۔ مذہبی اجتماعات میں لمبی لمبی تقریریں ، خضوع و خشوع سے کی گئی دعائیں اس بے لگام یلغار کو روک لیں گی ۔ اپنی کاہلی کو اللہ پر توکل کا نام دے کر بری الذمہ ہو جائیں گے اور یہ کفر کا عفریت ٹل جائے گا ۔ ہمیں اس کاہلی اور کمزور سوچ نے مفلوج کر رکھا ہے . کفر نے اپنا نظام زبردستی ھم پر مسلط کر رکھا ہے ۔ ایک عام مسلمان تو دور کی بات ہے ، ہمارے علماء بھول گئے ہیں کہ ہمارا نظام اللہ کا نافذ کردہ نظام ہے جمہوریت نہیں . ھمارے دانشور اور فلاسفر بھی اسی جمہوری نظام کا راگ الاپ رہے ھیں ۔ طاغوت اپنی مسلسل جدوجہد سے اپنی زبان بولنے والے حکمران ہم پر مسلط کر چکے ہیں۔ انہی کا قانون ، انہی کا تعلیمی سسٹم ، انہی کا طرز زندگی اور انہی کی تہذیب ، ہمارے رگ و پے میں سرائت کر گئی ہے ۔ ہم خوف زدہ ہیں کہ اگر کوئی چوں و چراں کی تو ہمارا بھی وہی حشر ہو گا جو عراق کا ھوا ، جو لیبیا کا ھوا ، جو سوڈان کا ھوا اور جو شام کا ھونے والا ہے ۔ ہمیں اب تقریر و تحریر سے ہٹ کر سوچنا ہو گا ۔ تدبیر کرنا ہو گی کہ ایسا مثبت راستہ تلاش کیا جائے ، جو ہماری اصل منزل کی طرف جاتا ہو ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ اگر چڑیاں متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال کھینچ سکتی ھیں ۔آیئے مثبت سوچ کے ، ہم خیال دوستوں کا نیٹ ورک ترتیب دیں اور تدبیر کے ساتھ اس جہاد کا آغاز کریں ، جس کی منزل اللہ اور حبیب اللہ کا نظام ہو۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
ھم یہ سمجھے بیٹھے ھیں کہ اسلام کے خلاف طاغوت کی منظم سازش دعاوں سے ٹل جائے گی۔ مذمت اور نفرت کا سخت ترین لفظوں میں اظہار کفر کو روک لے گا ۔ مذہبی اجتماعات میں لمبی لمبی تقریریں ، خضوع و خشوع سے کی گئی دعائیں اس بے لگام یلغار کو روک لیں گی ۔ اپنی کاہلی کو اللہ پر توکل کا نام دے کر بری الذمہ ہو جائیں گے اور یہ کفر کا عفریت ٹل جائے گا ۔ ہمیں اس کاہلی اور کمزور سوچ نے مفلوج کر رکھا ہے . کفر نے اپنا نظام زبردستی ھم پر مسلط کر رکھا ہے ۔ ایک عام مسلمان تو دور کی بات ہے ، ہمارے علماء بھول گئے ہیں کہ ہمارا نظام اللہ کا نافذ کردہ نظام ہے جمہوریت نہیں . ھمارے دانشور اور فلاسفر بھی اسی جمہوری نظام کا راگ الاپ رہے ھیں ۔ طاغوت اپنی مسلسل جدوجہد سے اپنی زبان بولنے والے حکمران ہم پر مسلط کر چکے ہیں۔ انہی کا قانون ، انہی کا تعلیمی سسٹم ، انہی کا طرز زندگی اور انہی کی تہذیب ، ہمارے رگ و پے میں سرائت کر گئی ہے ۔ ہم خوف زدہ ہیں کہ اگر کوئی چوں و چراں کی تو ہمارا بھی وہی حشر ہو گا جو عراق کا ھوا ، جو لیبیا کا ھوا ، جو سوڈان کا ھوا اور جو شام کا ھونے والا ہے ۔ ہمیں اب تقریر و تحریر سے ہٹ کر سوچنا ہو گا ۔ تدبیر کرنا ہو گی کہ ایسا مثبت راستہ تلاش کیا جائے ، جو ہماری اصل منزل کی طرف جاتا ہو ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ اگر چڑیاں متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال کھینچ سکتی ھیں ۔آیئے مثبت سوچ کے ، ہم خیال دوستوں کا نیٹ ورک ترتیب دیں اور تدبیر کے ساتھ اس جہاد کا آغاز کریں ، جس کی منزل اللہ اور حبیب اللہ کا نظام ہو۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں