منگل, مئی 31, 2016

RAMDAN AND WE

رمضان کریم کی تیاری زور شور سے ہونے کو ہے - پھر سے صاحبان استطاعت دستر خوان سجائیں گے - کچھ مخیر روزہ کشائی کا اہتمام بھی کریں گے - مگر اسکے باوجود بیشمار لوگ , بیشمار مسلمان دنیا کے کونے کونے میں , دو گھونٹ پانی , چند لقمے اناج پر حسب معمول گزارہ کریں گے - نہ دستر خوان سجیں گے , نہ ٹھنڈے مشروب ہونگے , نہ پھل ہونگے اور نہ دیگر نعمتیں ہوں گی - الله کے یہ وہ بندے ہیں جو اس حال میں بھی نہ اپنی بھوک کی شکایت کرتے ہیں اور نہ کسی اچھے وقت کا انتظار - ایسے بھی بیشمار لوگ ہیں جو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے , وہی معمولات زندگی پہ گزارہ کریں گے - کبھی افطار کا  بندوبست نہیں تو کبھی سحری کا - ایسے بھی ہونگے جو سحر و افطار سے واقف بھی نہیں ہونگے اور بڑی بڑی افطاریوں سے لطف اٹھائیں گے - ایسی دعوتیں بھی ہوں گی جن میں شرفاء لطف اٹھا رہے ہونگے اور غرباء باہر گاڑیوں کی نگرانی کرتے ہوے ایک کھجور یا چند پکوڑے ڈھونڈھ رہے ہونگے - ایسے یتیم بھی ہونگے جو ماں سے  بھوک کی شکایت بھی نہیں کریں گے کہ انکے سرپرست نہیں رہے - بیوہ ماں آنکھوں میں آنسو لئے بچوں کو دیکھ رہی ہو گی -
کیا روزے کا یہ مقصد نہیں تھا کہ ہمیں بھوک کی شدت بھوکے کے قریب کر دے اور پیاس کی شدت پیاسے کے احساسات سے آگاہ کر دے - کیا ہمیں اپنے ارد گرد دیکھے بغیر افطار دعوتوں کا حق رہ جاتا ہے - کیا روزہ مردہ احساس کو زندگی بخشنے والی عبادت نہیں -
پھر ہم نے کیا سیکھا اور کیا پایا اپنی بھوک اور پیاس سے - اگر اپنی ذات سے ہٹ کر سوچا ہی نہیں تو شاید
ہمارے  لئے نہ رمضان آیا نہ ہم نے کوئی روزہ رکھا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں