رمضان کریم کی تیاری زور شور سے ہونے کو ہے - پھر سے صاحبان استطاعت دستر خوان سجائیں گے - کچھ مخیر روزہ کشائی کا اہتمام بھی کریں گے - مگر اسکے باوجود بیشمار لوگ , بیشمار مسلمان دنیا کے کونے کونے میں , دو گھونٹ پانی , چند لقمے اناج پر حسب معمول گزارہ کریں گے - نہ دستر خوان سجیں گے , نہ ٹھنڈے مشروب ہونگے , نہ پھل ہونگے اور نہ دیگر نعمتیں ہوں گی - الله کے یہ وہ بندے ہیں جو اس حال میں بھی نہ اپنی بھوک کی شکایت کرتے ہیں اور نہ کسی اچھے وقت کا انتظار - ایسے بھی بیشمار لوگ ہیں جو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے , وہی معمولات زندگی پہ گزارہ کریں گے - کبھی افطار کا بندوبست نہیں تو کبھی سحری کا - ایسے بھی ہونگے جو سحر و افطار سے واقف بھی نہیں ہونگے اور بڑی بڑی افطاریوں سے لطف اٹھائیں گے - ایسی دعوتیں بھی ہوں گی جن میں شرفاء لطف اٹھا رہے ہونگے اور غرباء باہر گاڑیوں کی نگرانی کرتے ہوے ایک کھجور یا چند پکوڑے ڈھونڈھ رہے ہونگے - ایسے یتیم بھی ہونگے جو ماں سے بھوک کی شکایت بھی نہیں کریں گے کہ انکے سرپرست نہیں رہے - بیوہ ماں آنکھوں میں آنسو لئے بچوں کو دیکھ رہی ہو گی -
کیا روزے کا یہ مقصد نہیں تھا کہ ہمیں بھوک کی شدت بھوکے کے قریب کر دے اور پیاس کی شدت پیاسے کے احساسات سے آگاہ کر دے - کیا ہمیں اپنے ارد گرد دیکھے بغیر افطار دعوتوں کا حق رہ جاتا ہے - کیا روزہ مردہ احساس کو زندگی بخشنے والی عبادت نہیں -
پھر ہم نے کیا سیکھا اور کیا پایا اپنی بھوک اور پیاس سے - اگر اپنی ذات سے ہٹ کر سوچا ہی نہیں تو شاید
ہمارے لئے نہ رمضان آیا نہ ہم نے کوئی روزہ رکھا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
کیا روزے کا یہ مقصد نہیں تھا کہ ہمیں بھوک کی شدت بھوکے کے قریب کر دے اور پیاس کی شدت پیاسے کے احساسات سے آگاہ کر دے - کیا ہمیں اپنے ارد گرد دیکھے بغیر افطار دعوتوں کا حق رہ جاتا ہے - کیا روزہ مردہ احساس کو زندگی بخشنے والی عبادت نہیں -
پھر ہم نے کیا سیکھا اور کیا پایا اپنی بھوک اور پیاس سے - اگر اپنی ذات سے ہٹ کر سوچا ہی نہیں تو شاید
ہمارے لئے نہ رمضان آیا نہ ہم نے کوئی روزہ رکھا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں